22 اگست 2011 - 19:30

لیبیا میں انقلابیوں کی کامیابی اور سابق ڈکٹیٹر قذافی کی سرنگونی کےبعد اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرکے کہا ہےکہ لیبیا کے عوام اپنے ملک میں کل کے سامراجیوں اور آج کے جمہوریت کے دعویداروں کو مداخلت کرنے کا موقع نہ دیں۔

ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے بیان میں لیبیا کے انقلابی عوام کو کامیابی کی مبارک باد پیش کرتےہوئے کہا گيا ہے کہ لیبیا کے عوام نے حالیہ مہینوں میں علاقے میں عوامی تحریک کا ایک اور نمونہ پیش کیا ہے۔ اس بیان میں کہا گيا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ کی طرح آزادی، عدل و انصاف اور انسانی عزت و وقار نیز ترقی کی راہ میں لیبیا کی قوم کو اپنے تجربوں سے فائدہ پہنچانے کے لئے آمادہ ہے۔ قابل ذکر ہے کہ لیبیا کے انقلابیوں نے اتوار کے روز طرابلس میں نمایاں کامیابی حاصل کی تھی اور اس شہر کے پچانوے فی صد حصہ پر اپنا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ ادھر لیبیا کے ایک انقلابی رہنما ادریس ادبیش نے کہا ہے کہ لیبیا کے عوام قذافی پر مقدمہ چلائے جانے کے خواہاں ہيں اور قذافی اسکے بیٹوں اور اس کے آلہ کاروں پر لیبیا کی عدالت میں منصفانہ مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔ دریں اثنا لیبیا کے سابق وزیر قانون نے کہا ہے کہ اس بات کا زیادہ امکان ہےکہ قذافی طرابلس سے فرارہوگیا ہے اور اپنی رہائش گاہ باب العزیزیہ میں نہیں ہے۔ تیونس کے وزیر اعظم نے بھی کہا ہےکہ قذافی کے ساتھ تعلقات میں کشیدگي آگئي ہے اور ہوسکتا ہے قذافی تیونس کے علاوہ کسی اور ملک بھاگ گيا ہو۔
............ 
/169